Posts

Showing posts from March, 2022

سیاسی بحران :کیا فوج کو مداخلت کرنی چاہئے؟؟

Image
سیاست کے منظر پر شعلے ہی شعلے ہیں ۔پی ٹی آئی اور اپوزیشن تصادم آج تو ہوتے ہوتے رہ گیا ،ناجانے کل کیا ہوگا ؟   آئندہ ہفتے حکومت اور اپوزیشن لاکھوں  اپنے  حمایتیوں کو اسلام آباد میں لائینگے ۔عدالتی جنگ کا بھی آغاز ۔منحرفین کے ارکان کیخلاف سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر ہوگا ۔اس میں تو کوئی شک نہیں کہ تحریک عدم اعتماد پر آسانی سے ووٹنگ نہیں ہوگی ۔ اللہ کرے جمہوریت کی  گاڑی پٹڑی پر ہی رہے ۔ دو دنوں میں جو ہوا ہے،وہ نہیں ہونا چاہئے تھا ،آئین اور قانون کے مطابق تحریک عدم اعتماد کا جو قدم اٹھایا گیا اس پر پی ٹی آئی کا جو جواب سامنے آرہا ہے اس لگتا ہے معاملہ کہیں اور جارہا ہے،یہ غنڈہ گردی ہے،پی ٹی آئی  کے رہنمائوں نے پہلے کہا تھا کہ یہ تحریک عدم اعتماد لے آئیں ہم اس سے قانونی اور آئینی طریقے سے نمٹیں گے،مسئلہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی کا ایک گروہ کچھ کہتا ہے  دوسرا کوئی اور بات کرتا ہے،کس  کی بات پر یقین کیا جائے۔قانون تو منحرف ارکان کو ووٹ ڈالنے کی اجازت دیتا ہے۔اس میں کچھ بھی ہوسکتا ،پیسے کا عمل دخل ہوسکتا ہے،اس میں اگلے الیکشن میں ٹکٹ بھی دی جاسکتی ہ...

رشوت خور پنجاب پولیس

Image
  دنیا بھرمیں سوفٹ ٹیکنالوجی کے آنے سے جہاں ایک مثبت تبدیلی آئی ہے تو کرپٹ لوگوں نے بھی اس کا خوب فائدہ اٹھایا ہے،انہوں نے ابھی اپنی لوٹ مار کو سوفٹ نام دے دیے ہیں،رشوت کو مٹھائی،خوشی کا نام دے کر جیبیں بھری جاتی ہیں،اب چونکہ عید کا موقع ہے تو یہاں ’’عیدی‘‘ جیسے خوبصورت اور خوشی کے کا نام کو بھی اپنے مقاصد کیلئے استعمال کیا جارہا ہے۔خوشیاں سب کا حق ہے لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ اخلاقیات قانون کو پس پشت ڈال دیا جائے۔   رمضان المبارک میں سب نے دیکھا کہ کیسے کیسے ہم عوام کی خدمت کرتے پائے گئے،ہمارے روزے کیسے کمال کے گزرے ہیں،جس کا اندازہ حکمران جماعت کے نمائندوں، کارندوں اورسازندوں کے بیانات سے لگایا جا سکتا ہے۔سب چیخ چیخ کراپنی گڈگورننس کا پرچارکرتے رہے،رمضان بازاروں کے دورے کرتے پائے گئے،بڑی محنت کی ہے بیچاروں نے روزانہ مارکیٹوں میں جا کر تصویریں بنوانا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ ٹی وی پر تبصرے کرنا اور اپنی حکومت کے گن گانا خالہ جی کا گھر نہیں ہے!!دیہات کی بات چھوڑیں چھوٹے بڑے شہروں میں چیزیں مہنگی تو کیا سستی بھی نہیں ہونے دیں،ہر چیز رمضان سے پہلے جس قیمت پر تھی اسی پر تو بکتی...

وزیراعظم تو بڑے ہینڈسم ہیں!

Image
  ’’اتنی زیادہ چیزیں اچھی ہونے والی ہیں، اسٹاک ایکسچینج، انڈسٹری، پراپرٹی، میڈیا میں اتنی نوکریاں آنے والی ہیں کہ خوشحالی آجائے گی، پان والا، ٹھیلے والا کہے گا مجھ سے ٹیکس لے لو، اگر ایسا نہ ہوا تو میری تکہ بوٹی کردینا‘‘۔ یہ الفاظ کسی عام پارٹی ورکر کے نہیں، نہ ہی یہ کسی نجومی نے پیشگوئی کی ہے۔ یہ الفاظ ایک وفاقی وزیر کے ہیں۔ یہ وہی وزیر ہیں جو کراچی کی سڑکوں پر موٹر سائیکل لے کر نکل پڑتے ہیں، چینی قونصلیٹ پر حملہ ہوا تو پتلون کے ساتھ گن لگا کر پہنچ گئے، مار دھاڑ ان کا انداز ہے۔ ان کے منہ میں گھی شکر کہ ایسا ہوجائے۔ ایک اچھے انسان، اچھے مسلمان کو گمان بھی اچھا رکھنا چاہیے۔ ایسا نہ بھی ہوا تو کیا فکر ہمارے وزیراعظم تو ہینڈسم ہیں۔ چند روز پہلے بھی ایسا کچھ سننے کو ملا۔ صاحب تقریر میں فرما رہے تھے کہ دو کے بجائے ایک روٹی کھاؤ، جب حالات ٹھیک ہوجائیں تو ڈھائی کھا لینا، زیادہ بھی کھا سکتے ہیں۔ انہوں نے خوشحالی کےلیے تین چار ہفتے نہیں دو سال کا وقت مانگا۔ وزیر ریلوے پی ٹی آئی کے تو نہیں لیکن ان پر بھی رنگ انہی کا ہے۔ وہ روز کوئی نہ کوئی نئی چھوڑتے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں ایک مہینہ اہم ہے، ک...

عمران خان عثمان بزدار کو تبدیل نہیں کریں گے

Image
 تحریک عدم کہاں تک پہنچی ۔۔پارٹیاں کہاں کھڑی ہیں ؟ عدم اعتماد کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟  وزیر اعظم محتاط کیوں ہوگئے؟ کس کے مشورے پر عمل کیا ؟ وزیر اعظم جارحانہ سے حقیقت پسندانہ رویے پر کیوں آگئے؟   حکومت کے اتحادی کیا فیصلہ کرسکتے ہیں ؟    اتحادی پارٹیاں جہاں بھی کھڑی ہوں ۔کم ازکم اتنا طے ہے کہ وہ حکومت کے ساتھ نہیں کھڑیں۔ق لیگ کے بارے میں جو اشارے مل رہے ہیں وہ اپوزیشن کے ساتھ کھڑی ہوگی ۔اس کو مستقبل کی ضمانت ان کو آصف زرداری سے چاہئے۔ویسے اتحادی جماعتوں کو اس وقت وزیر اعظم کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے تھا ،رہی بات جلسوں کی تو اسمبلی میں آکر ووٹ جلسوں والوں نے نہیں ۔اتحادی ناراض ہیں تو ان کو تین سال میں کچھ نہیں ملا ۔اگر وہ پہلے اتحادیوں کو کچھ نہیں دے سکے تو آپ کیا دیں گے۔وزیر اعظم عثمان بزدار کو فارغ بولڈ فیصلہ کرسکتے تھے۔لیکن وہ کریں گے نہیں ۔ No confidence motion : challenges for Pm Imran khan   سوموار کو  چودھری برادران کا گھر اتحادیوں کا مرکز بن رہا ہے،سبھی اتحادی یہاں اکٹھے ہورہے ہیں،سوائے ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کے سبھی جمع ہوں گے،توقع ہے کہ مل ...

یہ اپنی مرضی سے سوچتا ہے اسے اُٹھا لو

Image
تحریر :اظہر اے  تھراج   اہل قلم اور بندوق برداروں کی ’’جنگ‘‘ آخری محاذ پر لڑی جارہی ہے۔ قلم اور کیمرے والے بندوق والوں سے خائف ہیں تو زرہ بند، بکتربند اور دنیا کے جدید ہتھیاروں سے لیس سپاہی قلم کی سیاہی، مائیک سے نکلتی آواز سے پریشان ہیں۔ ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کی جارہی ہے۔ یہ صرف پاکستان جیسے ملک میں ہی نہیں ہورہا، اپنے آپ کو مہذب کہنے والے ممالک میں بھی ایسا جاری ہے۔ اہل قلم سے امریکی صدر کو پریشانی ہے تو برطانیہ کا وزیراعظم بھی ان سے بچنے کے سہارے تلاش کرتا نظر آتا ہے۔ بھارتی حکمران تو ان کو کنٹرل کرنے میں کچھ آگے ہی نکل گئے ہیں، مقبوضہ کشمیر میں تو بقیہ بھارت سے زیادہ خطرناک صورتحال ہے۔ اسرائیل نے تو حد ہی کردی، غزہ میں میڈیا ہاؤسز کے دفاتر کو حماس کا مرکز قرار دے کر زمین بوس کردیا۔ ایک وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح اسرائیلی فوج ایک مائیک پکڑے خاتون کو پیٹ رہے ہیں۔ ہم کسی اور ملک میں نہیں جاتے، کسی اور کی بات نہیں کرتے، اپنے ہی ملک میں رہتے ہوئے بات کرتے ہیں۔ یہاں کا صحافی سب سے مظلوم شخص ہے۔ حکومت کے کسی کام کی تعریف کردے تو ’’یوتھیا‘‘ قرار دے دیا...

تحریک عدم اعتماد: ابھی تک دھند چھائی ہے

Image
کیا حالات قبل ازوقت انتخابات کی طرف جارہے ہیں؟  عدم اعتماد پر موجودہ بحران کا منطقی انجام کیا ہوگا؟  حکومتی حلقوں میں بداعتمادی کی اصل وجہ کیا ہے؟ اتحادیوں نے ابھی تک کوئی واضح پوزیشن  نہیں لی ۔پی ٹی آئی کے منحرف ارکان بھی ابھی کھل کے سامنے نہیں آئے،شیخ رشید نے تو دوستی کے روپ میں عمران خان سے دشمنی نبھائی ہے،بیان دے کر تیلی لگانے کی کوشش کی ۔  کوئی گرنیڈ نہیں پھینکے جارہے،’’آنے والوں ‘‘کی بات کیوں کی جاتی ہے۔عمران خان کے اتحادی  ان ریول ہورہے ہیں۔اس کی وجہ کیا ہے؟ ابھی تک اس کا کوئی جواب نہیں مل رہا ۔وزیر اعظم تحمل کا مظاہرہ کرتے تو  ان کیلئے فائدہ مند ہوتا ہے۔مجھے تو کوئی عالمی سازش نہیں لگتی ۔77 میں بھٹو نے بھی بیرونی سازشوں کا ڈھول پیٹا تھا ۔یہاں جس کے اقتدار کو خطرہ ہوتا ہے اس کو بیرونی سازش نظر آتی ہے۔وزیر اعظم میں فضول کی اکڑ ہے۔اتحادیوں کو ناراض نہیں ہونا چاہئے تھا ۔ Open link for English آج کی اپوزیشن چودھری برادران کے بارے میں نہیں کہتی جو خان صاحب ان کے بارے میں کہتے رہے،آخر کوئی وجہ تھی کہ حکومت سازی کیلئے ان کو ملانا پڑا ۔اب کیوں ڈانواں ڈ...

نئی شادی کی تیاریاں

Image
  تحریر: اظہر تھراج شادیوں کا موسم ہے اور خوب شادیاں ہورہی ہیں ،شادی ہالز بھرے ہیں ،کوئی دن خالی نہیں ،جن کو شادی ہالز میسر نہیں یا وہاں جانے کی سکت نہیں وہ گلی ،محلوں   اور سرکاری جگہوں کو اپنے باپ دادا کی جائیداد سمجھ کر پنڈال سجائے ہوتے ہیں ۔شادی کرنا اچھی بات ہے،ہر مذہب میں ،ہر معاشرے میں اسے مقدس سمجھا جاتا ہے،خوشی کے خوبصورت لمحات سبھی کو ملیں ،یہی ہر ایک کی دعا   بھی ہونی چاہئے - شادیاں بھی مختلف قسم کی ہوتی ہیں ،بے جوڑ شادیاں،بے رنگ شادیاں ۔پہلی ،دوسری اور تیسری شادی ۔اس میں لو میرج اور ارینج میرج بھی شامل ہیں ۔سب سے تکلیف دہ وہ شادی ہوتی ہے جو کسی کی طلاق کروا کر کی جائے،یہ تکلیف شادی کرنے والے کو نہیں بلکہ جس کی طلاق کروائی جاتی ہے اس کو ہوتی ہے۔اگر یہ شادی ’’عدت‘‘میں ہی کرلی جائے تو حرام ہوجاتی ہے،اسے آپ غیر مناسب یا مکروہ بھی کہہ سکتے ہیں ۔ محبت کی شادی کا معاملہ وقتی طور پر آسان اور پر لطف ہوتا ہے،وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ عمل تکلیف دیتا ہے،کبھی کبھار تو میاں بیوی کو سرخ جوڑے کے بجائے سفید لباس میں لپٹنا پڑتا ہے،کئی افراد کی قربانی دینی پڑتی ہے۔ ...

Drama serial "Hum Tum" which will Coming soon

Image
   Pakistan drama industry is developing day by day, new drama serials are joining it, drama industry is developing instead of film industry, people all over the world like it. This industry has given big names. This Ramadan. Another drama is coming to break all records. Its cast has been finalized and shooting has also started.   The duo of Ahad Raza Mir and Rimsha Khan will be appearing in the drama serial "Hum Tum" which will be aired for the first time in Ramadan. The playwright Saima Akram has written while the director will also perform his duties. This drama serial will also be aired on Hum Entertainment. It is believed that this is the first time that Ahad Raza Mir and Ramshakhan are competing in a drama. A female user called Ahad Raza Mir a boring actor. Another user agreed with the suggestion that Uhad should have been replaced by Wahaj or Bilal. The performance of actress Iqra Aziz and actor Farhan Saeed in the drama serial 'Snoo Chanda' was highly apprecia...

Why men against ''Mera Jism Meri Marzi'' slogan

Image
Liberal women are taking to the streets March 8 with their agendas and slogans, while masked women of Jamaat-e-Islami are campaigning for their rights. Who is right and who is wrong? This debate is pointless. The real problem is that both men and women are oppressed; the only difference is that the man does not cry, the woman does not know anything but crying.   The whole society flourishes on this same street from childhood to old age. And then this society turns into a state, Panchait, police, court. Somewhere the woman is being killed by declaring "Kali", then somewhere in the name of "Vinny" she is being humiliated. In the jirga, no Khosa, Laghari, Mazari, Baloch, Pathan, Sardar, Mahar, who has decided the life and death of a woman, slavery and freedom. Even those who were caught by the law missed the spectacle of "shine." Every year, women's and women's rights organizations continue to collect data on why more than 1,000 women were killed this...