تحریک عدم اعتماد: ابھی تک دھند چھائی ہے
کیا حالات قبل ازوقت انتخابات کی طرف جارہے ہیں؟ عدم اعتماد پر موجودہ بحران کا منطقی انجام کیا ہوگا؟ حکومتی حلقوں میں بداعتمادی کی اصل وجہ کیا ہے؟
اتحادیوں نے ابھی تک کوئی واضح پوزیشن نہیں لی ۔پی ٹی آئی کے منحرف ارکان بھی ابھی کھل کے سامنے نہیں آئے،شیخ رشید نے تو دوستی کے روپ میں عمران خان سے دشمنی نبھائی ہے،بیان دے کر تیلی لگانے کی کوشش کی ۔ کوئی گرنیڈ نہیں پھینکے جارہے،’’آنے والوں ‘‘کی بات کیوں کی جاتی ہے۔عمران خان کے اتحادی ان ریول ہورہے ہیں۔اس کی وجہ کیا ہے؟ ابھی تک اس کا کوئی جواب نہیں مل رہا ۔وزیر اعظم تحمل کا مظاہرہ کرتے تو ان کیلئے فائدہ مند ہوتا ہے۔مجھے تو کوئی عالمی سازش نہیں لگتی ۔77 میں بھٹو نے بھی بیرونی سازشوں کا ڈھول پیٹا تھا ۔یہاں جس کے اقتدار کو خطرہ ہوتا ہے اس کو بیرونی سازش نظر آتی ہے۔وزیر اعظم میں فضول کی اکڑ ہے۔اتحادیوں کو ناراض نہیں ہونا چاہئے تھا ۔
Open link for English
آج کی اپوزیشن چودھری برادران کے بارے میں نہیں کہتی جو خان صاحب ان کے بارے میں کہتے رہے،آخر کوئی وجہ تھی کہ حکومت سازی کیلئے ان کو ملانا پڑا ۔اب کیوں ڈانواں ڈول ہیں؟ جب حکومتیں بنتی ہیں تو اتحادی معاہدوں کے تحت آتے ہیں ،لگتا ایسے ہے کہ ایک پیج نہیں رہا اور اتحادیوں سے کیے گئے وعدے پورے نہیں ہوئے۔شیخ رشید چودھری برادران سے تعلقات کو عمران خان کی محبت پر ترجیح نہیں دیں گے،ایک بات تھی جو ان کے منہ سے نکل گئی ۔انہوں نے پانچ سیٹوں کی بات کی ہے،خود 2 سیٹوں کے ساتھ وزیر داخلہ ہیں ۔مونس الٰہی نے جواب دیا ۔شیخ رشید کی سرپرستی چودھری ظہور الٰہی نے کی تھی ۔بیان دے کر وزیر اعظم سے کوئی نیکی نہیں کی ۔باپ بھی ان کے بیان پر ناراض ہیں ۔اس میں کوئی دورائے نہیں کہ حکومت کا ہدف سی پیک تھا ۔انہوں نے چیک کیا ۔جب اندر سے مسئلہ ہوبیرونی سازش کی ضرورت نہیں ہوتی ۔وزیر اعظم ڈی چوک پر جلسہ کریں گے تو اپوزیشن بھی کرے گی ۔میرے خیال میں ان کو کوئی جلسہ نہیں کرنے دے گا ۔ق لیگ حکومتی مفاد کے ساتھ نہیں ریاستی مفاد کے ساتھ کھڑی ہوگی ۔
سب اشاروں کو مدنظر رکھتے ہوئے اتحادی فیصلہ کریں گے،حکومت کو ان کے مسائل سننے چاہئیں ۔پارلیمانی نظام میں ایسے حکومتیں نہیں چلتیں جس انداز میں عمران خان حکومت کرگئے ہیں ۔ووٹنگ کے وقت تک وزیر اعظم کے پاس ہے،جلسوں کی ضرورت نہیں اتحادیوں کی شکایت پر ٹھوس کام چاہئے،ساری گیم کا فیصلہ کہاں ہونا ہے اسی پر منحصر ہے،یہ سب وزیر اعظم پر منحصر ہے کہ وہ کیا فیصلہ کرتے ہیں ۔غیر یقینی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے،عمران خان چاہئیں تو مینیج کرسکتے ہیں ۔
تحریک عدم اعتماد ناکام ہوجائے گی ؟
شیخ رشید حکومت کے اتحادی ہیں،وہ تحریک انصاف کے ترجمان نہیں ہیں ۔جس طرح ق لیگ ان کے اتحادی ہیں اسی طرح شیخ رشید بھی اتحادی ہیں ۔تحریک انصاف کی حکومت ایک اقلیتی حکومت ہے،ایسی صورت میں مسائل ہوتے ہیں ۔وزیر اعظم نے اپنے اتحادیوں سے رابطہ رکھا ہے،اپنے پورے دور حکومت میں ہر ہفتے کابینہ کا اجلاس کرتے رہے ہیں۔ابھی تک اطلاعات ہیں کہ اتحادی حکومت کا ساتھ نہیں چھوڑ رہے۔میرے خیال میں اسلام آباد میں جلسہ کرنے کا وزیر اعظم کا فیصلہ مناسب ہے۔وہ اپنے غیر مقبول ہونے کو تاثر توڑ رہے ہیں ۔
Comments
Post a Comment